اس سلسلے میں انہوں نے ہائوس آف کامنز میں پرائیویٹ بل پیش کیا ہے۔فلپ ہیلو بون نے کہا ہے کہ ان کے بل میں عوامی اجتماعات کے مقامات پر مسلم خواتین کے منہ ڈھانپنے پر پابندی لگانے کو کہا جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان خواتین ان مقامات پر اپنا مکمل اسلامی لباس پہن کر نہیں جا سکیں گی۔
ان سے قبل مسٹر فلپ برقع کو اشتعال انگیز قرار دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ برقع برطانوی طرز معاشرت کا مخالف ہے۔ان کو اس بل پر بیس بیک بنچر اراکین پارلیمان کی حمایت حاصل ہے۔
انسانی آزادی اور انسانی حقوق کے دعوے دار اب اپنے نقاب الٹ کر اپنا اصلی چہرہ پیش کرنے لگے ہیں۔برقع پر پابندی لگانا نہ صرف مذہب کی آزادی کا مذاق ہے بلکہ انسانی حقوق کے بھی منافی ہے کہ ہر انسان کو اختیار ہے کہ وہ جیسا لباس پہنے۔
..................
/152